فوج کا سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان نواز بیانیے کی فتح ہے: مریم نواز

لندن: پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو این آر او نہیں مل رہا، ابھی تو مزید سچ سامنے آئیں گے، موجودہ لانگ مارچ کے پیچھے ادارہ نہیں ایک، دوافراد ہوسکتے ہیں۔ عمران خان کا وقت ختم ہو گیا، مذاکرات کسی صورت نہیں ہونگے، اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے سیاست میں دخل اندازی نہیں کریں گے، آج نوازشریف کے بیانیے کو کامیابی ملی ہے۔ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے مزید کہا کہ4 سال میں ملک کے قرضے کہاں چلے گئے، جو اس نے حالات پیدا کیے اس شخص کو تو سڑک پر ہی نہیں نکلنا چاہیے تھا۔ چارسال میں معیشت کو تباہ کر دیا گیا، لانگ مارچ کے دوران نجی ٹی وی کی صحافی صدف نعیم کی شہادت پر افسوس ہے، اس کے لانگ مارچ سے عوام لاتعلق ہے، اس کی وجہ یہی ہے عوام کو اس کا اصلی چہرہ پتا چل گیا ہے، اس نے سوچا تھا جھوٹ بول کرعوام کو گمراہ کر لوں گا، لانگ مارچ ان کا آخری پلان تھا، پہلے سازش کا جھوٹ بیانیہ گھڑا گیا۔
عمران خان کے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کیا ہے، اس کے مقاصد کیا ہیں، چار سال حکومت میں رہ کر خارجہ امور سمیت کسی بھی شعبے میں اس نے ملک کی تباہی نہ کی ہو۔4 سال میں قرضے کتنے بڑھ گئے، معیشت زیر زمین چلی گئی اور مہنگائی سے حالات خراب ہوگئے تو اس شخص کو کچھ بولنا نہیں چاہیے تھا، بجائے اس کے جلوس لے کر سڑک پر نکل آیا۔ قوم کے ٹیکس کے کروڑوں اور اربوں روپے اس مارچ کی حفاظے کے لیے خرچ ہو رہے ہیں، جس کے کوئی قومی مقاصد نہیں ہیں، اتنے بے دردی سے قوم کے پیسے اور وسائل لوٹا جارہا ہے۔ جس سازش کا بیانیہ انہوں نے گھڑا، وہ سارے جھوٹ اور فتور قوم پر واضح ہوگئی۔ آج لانگ مارچ میں عوام کی عدم شرکت کی وجہ یہی ہے کہ عوام کو اس کا اصلی چہرہ نظر آیا، جو جھوٹ بولے تھے وہ سارے عوام کے سامنے آیا۔ ہ اس نے سوچا تھا کہ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرلوں گا اور سچ کبھی عوام کے سامنے نہیں آئے گا تو وہ بڑی بھول اور زعم میں تھا۔ بدتمیزی کرنے والوں کو ہمیشہ لگتا ہے کہ وہ بدتمیزی کرکے کامیاب ہو جائیں گے۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے سوچا تھا پریشرکے ذریعے جلدی الیکشن کروالیں گے، اس کا ہدف آرمی چیف کی تعیناتی ہے، اس کے لانگ مارچ کا ایک ہی ہدف آرمی چیف کی نومبرمیں تقرری حکومت نہ کر سکے، اس کی 22 سالہ جدوجہد پرویز مشرف، ظہیرالاسلام سے شروع ہوئی، ان کا سارا تکیہ انہیں پر دار و مدارہے، اس کو پتا ہونا چاہیے، آرمی چیف کی تقرری کا اختیار شہبازشریف کے پاس ہے، تقرری سے عمران خان کا نا کوئی لینا اورنا کوئی دینا ہے، ان کوپتا ہے آخری کارڈ بھی ہاتھ سے نکل گیا ہے۔
لیگی نائب صدر نے مزید کہا کہ یہ ابھی بھی وہی اسٹیبلشمنٹ ڈھونڈ رہا ہے جو اس کے کان اورآنکھیں بن جائیں، 5 دن میں پارٹ ٹائم لانگ مارچ دو گھنٹے میں ختم ہو جاتا ہے اور پھر یہ واپس لاہور آ جاتا ہے،5 دن سے ہی لانگ مارچ لاہورمیں پھنسا ہوا تھا، جب 3 بجے لانگ مارچ شروع کریں گے اور دو گھنٹے میں ختم کر دیں گے تو مہینے میں بھی نہیں پہنچے گا، آج سنا ہے لانگ مارچ سارا دن گوجرانوالہ میں ہی ہوگا، گوجرانوالہ کے عوام سے کہوں گی وہ گھنٹہ گھرکی حفاظت کریں وہاں پرگھڑی چور پھررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اتنے سنگین جھوٹ بولتا ہے، ڈی جی آئی ایس آئی کو خاموشی توڑ کر پریس کانفرنس میں سچ سامنے لانا پڑا، اس کے جھوٹ سے قوم اور ملک کونقصان ہوا، رات کے اندھیرے میں پاؤں اوردن کے اُجالے میں تنقید کرتا ہے، آرمی چیف سے ملاقات بارے اس نے قوم کو نہیں بتایا، لوگوں کو تو پتا تھا ان کی رات کو ملاقاتیں ہوئی ہیں، اس نے تواپنی پارٹی اورعوام کوملاقات بارے نہیں بتایا تھا، چیف الیکشن کمشنر تم نے لگایا الزام لگاتے ہوئے شرم آنی چاہیے، چیف الیکشن کمشنر نے قوم کے سامنے حقائق رکھے، تم کس چیز پر 10 ارب کا ہرجانہ کرو گے وہ تو جیت جائے گا، کہتا ہے ہرجانہ شوکت خانم کو دونگا وہی ہرجانہ پھر اپنی جیب میں ڈال لے گا، اس کوجمہوری شخص اور سیاست دان نہیں مانتی، اس شخص کو انتشارکے لیے لانچ کیا گیا، رات کو بند کمرے میں کہتا رہا تاحیات ایکسٹنشن لے لو اب اسی کو جانورکہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے جھوٹوں کی قلعی کھل رہی ہے، نواز شریف کو این آر او نہیں مل رہا، ابھی تو مزید سچ سامنے آئیں گے، یہ توٹپ آف دی برگ (یہ تو ابھی معاملے کا آغاز) ہے، نواز شریف کو آج الیکشن لڑنے کا چیلنج کر رہے ہو، آر ٹی ایس بند کر کے بھی تم نہیں جیت سکے تھے، اپنی ہی چھوڑی ہوئی سیٹیوں میں کمی آ جاتی ہے، نواز شریف کو تو ابھی لیول پلائنگ فیلڈ ہی نہیں ملی، تمہارا لیول اس دن سامنے آئے گا جب نوازشریف سامنے آئے گا وہ دن دور نہیں، ججزکے ریمارکس ہے نواز شریف کا کوئی قصور نہیں، انتظار کرو، اسٹیبلشمنٹ نے تمہیں چور کا بتا دیا کیا تمہیں ہیروں کے سیٹ، گھڑیاں بیچنے کا اسٹیبلشمنٹ نے کہا تھا؟کل اس نے ڈھٹائی سے جھوٹ بولا کہ وہ نااہل نہیں، عدالت کو اس کے جھوٹ کا نوٹس لینا چاہیے، بھان متی کا کنبہ اس نے پارٹی میں اکٹھا کیا ہوا ہے، وہ دیکھ رہے ہیں اس کے سر سے ہاتھ اٹھ گیا ہے وہ اس لیے لانگ مارچ کا حصہ نہیں، جیولر کی بڑی کمپنی گراف کا سیٹ اس کو توشہ خانہ سے ملا تھا اس نے دو کروڑ سے لیکر 22 کروڑ کا دبئی میں بیچا ہے، یہ تقریبا 50کروڑکا توشہ خانہ سے چوری کرکے بیچ چکا ہے۔ لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اسد عمرنے بتایا جلدی الیکشن کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے بات کی، بھائی اگر جلدی الیکشن دینا ہے تو کیا اسٹیبلشمنٹ نے دینا ہے؟ الیکشن کرانا یا نہ کرانا کیا اسٹیبلشمنٹ کا کام ہے؟ جنرل پاشا، جنرل ظہیرالاسلام جیسے استاد رکھیں گے تو پھر آپ کو یہی تعلیم ملے گی، ہر سیاسی جماعت نے اداروں پر تنقید کی لیکن وہ اصلاح کے لیے تھی، اس کی تنقید نظریے نہ کسی جمہوری نا کسی ذاتی اصول کی وجہ سے ہے، اس کی تنقید میری آنکھ اور بیساکھیاں بن جاؤ ورنہ میرجعفر، میرصادق کہوں گا، تنقید کا بھی کوئی معیار ہونا چاہیے، آپ کوتکلیف ہے آپ کی نااہل، نالائق حکومت کو کیوں نہیں بچایا گیا، آپ نے کل کہا چوکیداروں کوہم تنخواہ دیتے ہیں، تضحیک آمیز انداز میں بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے، وطن کے لیے قربانیاں دینے والوں کے لیے ایسی بات مناسب نہیں، وہ ملک کے محافظ ہیں بنی گالہ اورآپ کی چوریوں کے محافظ نہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ 25مئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی اس نے عدالت میں جھوٹ بولا، افسوس مجھے یہ نہیں کہا آپ نے جھوٹ بولا آپ کی سیاسی پرورش ہی جھوٹوں میں ہوئی، مجھے افسوس ہے اس جھوٹ کی کوئی پکڑ نہیں، عدالت نے کہا ہوسکتا ہے عمران کو خبر نہ ملے، عدالت کوعمران کے جھوٹ، پروپیگنڈے کا نوٹس لینا چاہیے۔اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے سیاست میں دخل اندازی نہیں کریں گے، آج نوازشریف کے بیانیے کو کامیابی ملی ہے، جب سیاست میں مداخلت بند ہوئی تو عمران منہ کے بل گر پڑے، اس کی حکومت آئینی طریقے سے ختم ہوئی، اب اس کے مقدرمیں یہی رونا،دھونا لکھا ہے۔ اس قسم کے جتھوں، سازش کوروکنا ہرادارے اورقوم کا بھی فرض ہے، حکیم رانا ثنا نے پورا بندوبست کیا ہے، پاکستان کے تحفظ کے لیے سب سے بڑی ذمہ داری اس وقت عدالت کی ہے، عدالت کو ان کو پوری قوت سے روکنا چاہیے، اس کا قلع قمع ہونا چاہیے، میرے فیصلے میں صرف میری نہیں نوازشریف کی بھی بے گناہی ثابت ہوگئی ہے، بہت جلد نوازشریف اپنے وطن میں ہونگے، اپنے وطن سے دوررہنا ان کے لیے بڑی تکلیف ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور پاکستان کی سزا ساتھ ساتھ چلی، نواز شریف کی نااہلی کے بعد پاکستان میں تباہی آنا شروع ہوئی، پاکستان اور نوازشریف اکٹھے نیچے گئے، پاناما بنچ کے جرم کی قیمت پورے پاکستان نے ادا کی، حکومت کی کارکردگی قوم کو نظر آ رہی ہے، جب سے اسحاق ڈارآئے ڈالر 25 سے 26 روپے نیچے گیا اورمہنگائی کوبریک لگی، کل شہبازشریف نے تاریخی کسان پیکج کا اعلان کیا، جیسے جیسے وقت گزرے گا عوام کی بہتری ہو گی، نواز شریف کی کوشش ہے 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کومفت بجلی ملے۔
لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان کے لیے بھی جے آئی ٹی بننی چاہیے، ارشد شریف بھلے مخالف تھے اس کا انجام یہ نہیں ہونا چاہیے تھا، ایسے واقعے سے دل کو تکلیف ہوئی، ابھی کچھ ثابت نہیں ہوا کمیشن کے بعد حقائق سامنے آئیں گے، ارشد شریف کے قتل کا سیاسی فائدہ اٹھایا گیا تکلیف ہوئی، جب سلمان اقبال سےسوال پوچھا تو انہوں نےصرف خط کے ذریعےجواب دیا، سلمان اقبال کو پاکستان آ کر تحقیقات کا سامنا کرنا چاہیے، لوگ تو اس حوالے سے بہت باتیں کر رہے ہیں کس کا فارم ہاؤس تھا، فیصل واوڈا نے ہوشربا حقائق قوم کے سامنے رکھے، ارشد شریف قتل کیس، حقائق سامنے آنے چاہئیں۔
مریم نواز نے کہا کہ 2014ء کے دھرنے کے پیچھے طاقت ورافراد پیچھے تھے، یہ دھرنا توپہلے ہی ناکام ہوچکا ہے، موجودہ لانگ مارچ کے پیچھے ادارہ نہیں ایک، دوافراد ہوسکتے ہیں۔ اپنے ہی اداروں پرحملہ آورہونا ملک کے دشمنوں کا کام ہے، اسی لیے اسے فارن فنڈڈ فتنہ کہتی ہوں، نوازشریف کا مفتاح اسماعیل سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں، نوازشریف چاہتے تھے مہنگائی کوکنٹرول کرو، آج ڈالرنیچے آنے سے مہنگائی میں فرق آیا ہے، بجلی کے زائد بلوں پرنوازشریف نے سخت نوٹس لیا تھا، عوام کوریلیف دینا نوازشریف کا مقصد ہے، عمران پریشرتوڈال رہے ہیں پریشرنہیں پڑرہا، کل کوکوئی اور20ہزارکا جتھہ لیکرآجائے گا توکیا اس کی سن لیں گے،وقت ختم ہو گیا کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔ مذاکرات کی بات کرنے کا مقصد اپنے لوگوں کو سہارا دینا ہے، ان سے کوئی مذاکرات ہورہے ہیں نا ہونے چاہئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں