عمران خان کے الزامات کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس فل کورٹ کمیشن بنائیں:وزیراعظم

لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد مجھ سمیت، وزیرداخلہ اور ادارے کے اہم افسر پر الزام لگانا افسوسناک بات ہے۔ وزیرآباد فائرنگ کیس فوجداری چلتا رہے گا، عمران نیازی کے الزام کا پوری طرح شنوائی کا تقاضا ہے، میں آج چیف جسٹس سے ملتمس ہوں فل کورٹ کا کمیشن بنائیں۔ ادارے پر تنقید کے بعد کارروائی کرنا میرا فرض ہے، پاک فوج نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے حکومت کارروائی کرے، پوری طرح فرض کی ادائیگی ہو گی۔
وزیراعظم، وزیر داخلہ اور ادارے کے اعلیٰ افسر پر الزام لگانا افسوسناک ہے
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وزیرآباد واقعے کی ہم سب نے بھرپورمذمت کی، واقعے کے بعد میں نے اپنی پریس کانفرنس ملتوی کردی تھی، جواللہ کوپیارے ہوئے اللہ انہیں جنت میں جگہ عطا فرمائے، عمران نیازی سمیت اللہ زخمیوں کوجلد صحت یابی دے، ایک مرتبہ جھوٹ اورگھٹیا پن کا مظاہرہ کیا گیا، وزیراعظم،وزیرداخلہ اورادارے کے اہم افسرپرالزام لگانا افسوس ناک بات ہے۔ یہ گھڑی ایسی ہے کہ سخت الفاظ سے پرہیز کرنا چاہیے لیکن قوم کو مسلسل آپ اپنے جھوٹ، بدنیتی اور گھٹیا پن سے قوم کو بری طرح تباہی کے کنارے لے جانے کی بہت ہی افسوسناک حرکتیں کر رہے ہوں تو میرا بھی فرض ہے کہ وہ پاکستان کو بچانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ عمران نیازی اورباقی لوگوں کوصحت دے، قوم کوجھوٹ اورگھناؤنی سازشوں سے چھلنی چھلنی کیا جارہا ہے۔ واقعے کے بعد الزام تراشیاں کرنا افسوسناک ہے، اداروں پرالزامات لگانے کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔ کل اورپرسوں بدترین قسم کی الزام تراشی کی گئی۔ چین جانے سے پہلے کسان پیکیج کا اعلان کیا، چین میں سی پیک کے حوالے سے پیشرفت شروع ہوگئی ہے۔

لانگ مارچ میں فائرنگ کا واقعہ پنجاب میں پیش آیا، کارروائی کیلئے صوبائی حکومت سے پوچھیں

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان دن رات جھوٹ بولنے والا شخص ہے، افواج پاکستان پر ایسے حملہ آورہے جیسے کوئی دشمن ہو، جنرل باجوہ افواج پاکستان کے سپہ سالار ہیں، دشمن ملک بھارت تو آج خوشیاں منا رہا ہے، بھارتی چینلز کے چہروں پر آج مسکراہٹ ہے۔ عمران خان وہ سنگین الزامات لگا رہا ہے جو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا، اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، یہ شخص سرسے پاؤں تک جھوٹ کا مجسمہ ہے۔ پانچ سال پہلے میرے خلاف 10 ارب کا الزام لگایا گیا، عدالت میں ان کے وکیل پیش نہیں ہوتے، ہمیں سزائیں دلوانے کے لیے ریٹائرڈ ججز کو لگانے کے لیے آرڈیننس جاری کروایا گیا، طیبہ گل خاتون کو وزیراعظم ہاؤس میں حبس بیجا میں رکھا گیا، طیبہ گل کو وزیراعظم ہاؤس رکھ کر چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا گیا، اس نے خارجی تعلقات کوبھی تباہ کردیا، فائرنگ کا واقعہ پنجاب میں پیش آیا، پنجاب میں حکومت آپ کی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر نہیں کٹ رہی تو وہاں میری حکومت تو نہیں، ایف آئی آر نہیں کٹ رہی تو پنجاب حکومت سے پوچھیں، پوسٹ مارٹم کیوں نہیں ہوا، اگر عمران نیازی کے پاس ثبوت ویڈ تو میرے پاس ایک لمحہ بھی عہدے پر رہنے کا اختیارنہیں ہو گا، برطانوی این سی اے ادارے نے مجھے کلین چٹ دی، ہیرے، جواہرات منہ بولتا ثبوت ہیں کن کوملے، ہیرے، جواہرات تو ثابت ہو گئے ہیں، ثبوت پکار پکار کر کہہ رہے ہیں یہ شخص صادق اور امین نہیں، اگر اپنی مرضی کی ایف آئی آر کٹوانا چاہتے ہیں تو کٹوالیں، اگر ثبوت نہ دیئے تو پھراس الزام کے بعد عدالتوں کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے، ایف آئی آرکٹتی رہے گی انویسٹی گیشن ہوتی رہے گی، میڈیکل رپورٹ سرکاری ہسپتال دیتے ہیں یہ سیدھے شوکت خانم چلے گئے، اللہ جانتا ہے کتنی گولیاں لگیں، عمران خان نے تین گھنٹے کا سفر کیوں کیا، یہ خیراتی ہسپتال کیوں پہنچ گئے سوالیہ نشان ہے،جواب دیں۔

انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن واقعہ بہت افسوسناک واقعہ تھا، سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سیاست کرنے کی کوشش کی گئی، انہوں نے آرمی چیف کو توسیع دینے کے بارے میں خود اقرار کیا، سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف ایسی مہم دشمن بھی نہیں کر سکتا، یہ اس شخص کا فتور ہے، یہ پاکستان پر سیاسی طور پر 75 سال کا سب سے بڑا بوجھ ہے، 22 کروڑعوام نے الیکشن والے دن فیصلہ کرنا ہے، الیکشن میں عوام جو بھی فیصلہ کریں گے قبول کروں گا لیکن پھرپاکستان تباہی سے نہیں بچ سکے گا، رانا ثنا اللہ کے خلاف ہیروئن کا جعلی کیس عمران کی ہدایت پرڈالا گیا، رانا ثنا اللہ پر منشیات کے الزام لگایا ثبوت کہاں ہیں، اس آدمی کے پاس انسان نہیں پتھرکا دل ہے۔

عمران خان نے ارشد شریف کیس کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ طلعت محمود نوازشریف کے کلاس فیلو تھے، طلعت محمود عرف ٹومو عمران خان کے جگری یار تھے، طلعت محمود ٹومو کی شکل بھی عمران سے ملتی جلتی ہے، طلعت محمود پنجاب میں بینکر تھے، طلعت محمود کو کینسر ہوا تو عمران نیازی نے اس کے خلاف کیس بنوا دیا تھا، عمران نیازی نے اس کا نام ای سی ایل میں بھی ڈلوا دیا تھا، طلعت محمود کو دوستوں نے کہا عمران نیازی سے کہو نام ای سی ایل سے نکال دے، طلعت محمود نے عمران نیازی کو بیماری کے بارے میں پیغام دیا بیمار ہوں جانے دیں، جس دن اس کی موت ہوئی اس نے اس دن اس کا نام ای سی ایل سے نکلوایا، اس سے زیادہ اورکیا پتھردلی ہوسکتی ہے۔دوسرا واقعہ علیم خان نے عمران نیازی پر اربوں روپے لگا دیئے، عمران نیازی کو بھنک پڑی علیم خان وزیراعلیٰ بننا چاہتا ہے، علیم خان کے خلاف بھی کیس بنا دیئے گئے، یہ محسن کش اور پتھردل انسان ہے، نعیم الحق کا انتقال ہوا یہ اس کے جنازے میں نہیں گیا۔ عمران خان نے ارشد شریف کیس کواپنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جلا دو، اسمبلی پرحملہ کر دو ہم نے تو ایسی باتیں کبھی سوچی بھی نہیں تھیں، آئینی طریقے سے اس کی حکومت تبدیل ہوئی، غلیظ زبان میں سوشل میڈیا بریگیڈ گالیاں دے رہا ہے، اسی ادارے نے اس پر اتنا بڑا احسان کیا تھا، افواج پاکستان نے دہشتگردی کی خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں، کہتا ہے بند کمروں میں پہلے چار اور اب تین لوگوں نے سازش کی، ڈی جی ایف آئی اے، طیبہ گل کو کمرے میں آپ نے بند کیا تھا، آج قوم تاریخ کے اس دوراہے پر پہنچ گئی ہے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی کرنا ہو گا ورنہ ملک آگے نہیں چل سکے گا، اسکاٹ لینڈ یارڈ کی بات کرتا ہے این سی اے کیا بنگلادیش کا ادارہ ہے، الیکشن کمشنر بارے آپ نے کہا تھا بہت ایماندارآدمی ہے، میرا منہ نہ کھلواؤورنہ عمران نیازی منہ چھپاتے پھرو گے، میرے سینے میں قومی رازرہنے دو۔

وزیر آباد فائرنگ ، چیف جسٹس سے التماس ہے فل کورٹ کمیش بنائیں

انہوں نے کہا کہ وزیرآباد فائرنگ کیس فوجداری چلتا رہے گا، 22 کروڑعوام کواس کیس بارے جاننے کا حق ہے، پاکستان کی جمہوری کشتی کو کئی مرتبہ ہچکولے لگے، اگراس سازش میں دور دور رتی برابر بھی ثبوت آجائے تو ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑدونگا، میں سمجھتا ہوں پاکستان کے وسیع ترمفاد کا تقاضا ہے، عمران نیازی کے الزام کا پوری طرح شنوائی کا تقاضا ہے، میں آج چیف جسٹس سے ملتمس ہوں فل کورٹ کا کمیشن بنائیں، کمیشن میں تمام ججزکوشامل کریں۔ چیف جسٹس میرے لیے بہت محترم ہیں، اس وقت سب سے بڑے قاضی چیف جسٹس آف پاکستان ہیں، گزارش ہے عدل اورانصاف کے مفاد میں فل کورٹ تشکیل دیں، خط کے ذریعے بھی چیف جسٹس سے درخواست کرونگا، اگرآج آپ نے میری درخواست کو منظور نہ کرایا تو پھر آنے والے وقتوں میں ہمیشہ کے لیے سوال اٹھتے رہیں گے، یہ سازش تبھی دفن ہوگی جب حقائق سامنے آئیں گے، یہ پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے، یہ پاکستان کے اپنے وجود کا تقاضا ہے خدارا فل کورٹ کا کمیشن تشکیل دیدیں، جب فل کورٹ طلب کرے گا سب پیش ہوں گے۔یہ اتنا بڑا الزام ہے جس نے پاکستان کی جڑوں کو ہلادیا ہے، الزام کی جڑوں تک پہنچنا ہو گا، فل کورٹ پر مبنی کمیشن پر پوری قوم کا اعتماد ہو گا، ابھی سے کہہ رہا ہوں فل کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہو گا اسے من وعن تسلیم کرونگا۔ یہ خانہ جنگی کا ماحول پیدا کر رہا ہے، یہ ڈرپوک شخص ہے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، چیف جسٹس آف پاکستان سے فل کورٹ کی درخواست کی ہے، اس سے زیادہ سنگین الزام نہیں ہوسکتا، فل کورٹ کا مطالبہ بڑا ایک جائز مطالبہ ہے، اگرکل کوکوئی ایسا فیصلہ آئے گا تو پھروہی زبان شروع ہوجائے گی، میرا نہیں خیال فل کورٹ پرکسی کواعتراض ہوگا،

پاک فوج پر الزامات، کارروائی کرنا میرا فرض ہے

پاک فوج کی طرف سے چیئر مین پی ٹی آئی کیخلاف کارروائی کی درخواست کے سوال جواب پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کارروائی کرنا میرا فرض ہے، ادارے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے حکومت کارروائی کرے، پوری طرح فرض کی ادائیگی پوری ہو گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ارشد شریف شہید کے لیے خود کمیشن بنایا، کینیا ٹیم بھجوائی، پتا چلا ہے ارشد شریف کی والدہ نے کمیشن سے اختلاف کیا ہے، چاہتا ہوں یہی فل کورٹ ارشد شریف قتل کے بھی حقائق معلوم کرے، پتا چلنا چاہیے کس نے ذاتی دکان چمکانے کی کوشش کی۔

آرمی چیف کی تعیناتی اپنے وقت پر ہو جائے گی

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ووٹن کرکٹ کلب کے خیراتی پیسے کوسیاست کے لیے استعمال کیا گیا، کروڑوں روپے کے تحفے بازاروں میں بیچ کرپاکستان کی عزت کونیلام کیا، یہ سرٹیفائیڈ چوراور ڈکیت ہے۔ چین گیا ہوں، خدا خدا کر کے برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کا جامع کیس پیش کیا، آرمی چیف کی تعیناتی اپنے وقت پر ہو جائے گی، اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔

اعظم سواتی سے متعلق حقائق قوم کے سامنے لائیں گے

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں جو میری ویڈیو جاری ہوئی تھی کیا وہ میری اجازت سے جاری ہوئی تھی، فتنہ، سازش کودفن کرنے کا فل کورٹ سے بہترکوئی علاج نہیں، کسی بھی معاملے پرکمیشن بنانے کی درخواست حکومت کا استحقاق ہے۔ 2014ء دھرنے کا مقصد چین کے دورے کو متاثر کرنا تھا، گورنرہاؤس میں سکیورٹی دینا پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے، پنجاب حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، عمران نیازی کو 75 سالوں میں جتنی سپورٹ ادارے نے دی کوئی خواب بھی نہیں دیکھ سکتا، عمران خان اتنے فائدہ، سپورٹ لینے کے باوجود اسی ادارے پر الزام لگارہا ہے، ایسا فتنہ، شرانگیزشخص ہی باتیں کرسکتا ہے، اعظم سواتی کیس کا علم ہوا ہے، حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں