انصاف کے لیے چیف جسٹس کی طرف دیکھ رہے ہیں: عمران خان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں انصاف نہ ملنا ملک کی تباہی کا سبب ہے، چیف جسٹس صاحب ہم انصاف کے لیے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، ہمیں انصاف کی امید نہیں، چیف الیکشن کمشنر ن لیگ کے قریب اوراس کو ہینڈلربھی کنٹرول کر رہے ہیں۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں پاکستان تحریک انصاف کے حقیقی آزادی لانگ مارچ کے شرکاء سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں بینکوں سے قرض واپس کرنے کا رسک 5 فیصد، آج 5۔64 فیصد ہو چکا ہے، اس کا مطلب ہماری معیشت کا قتل ہوا ہے، قوم کوسمجھنا چاہیے ان کے ساتھ ہوا کیا ہے، دنیا سمجھ رہی ہے پاکستانی معیشت کمزور ہے، اب اپنے قرض واپس نہیں کرسکے گا، بیرون ملک سے سرمایہ کاری کرنے والے بھی اب ڈریں گے، سارے قرضے دوخاندانوں نے ہمارے دس سالوں میں بڑھائے۔ روپیہ کی قدرمسلسل نیچے جارہی ہے، ملک میں ڈالرنہیں آرہے،روپیہ مسلسل گررہا ہے۔ پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ سب سے پہلا سوال ہے جن لوگوں نے سازش کر کے چوروں کو مسلط کیا اب بتائیں کون ذمہ دارہے؟ پچھلے 7 ماہ میں مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، ہمارے دور میں 16 فیصد اور آج مہنگائی بھی دُگنا ہو چکی ہے، ہمارے دورمیں ایکسپورٹ بڑھ رہی تھی، موجودہ حکومت کےاکنامک سروے کے مطابق پی ٹی آئی حکومت میں 6 فیصد گروتھ ہو رہی تھی، اکنامک سروے کے مطابق 32 ارب ڈالرکی ہم نے تاریخی ایکسپورٹ کی، اکنامک سروے کے مطابق 17 سال بعد زراعت میں اضافہ ہوا۔ اکنامک سروے کے مطابق سروسز سیکٹر 2۔6 فیصد گروتھ ہوئی، ہمارے دورمیں آئی ٹی سیکٹر میں 26 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا، مسلم لیگی حکومت نے بجلی کےمعاہدے ایسے کیے اگر بجلی کم استعمال بھی کریں گے تو پیسے پورے ہی دینے پڑیں گے، ہمارے دورمیں معیشت بڑھ رہی تھی اورملک ترقی کررہا تھا، ترقی کے باوجود سازش کے تحت ان کوبٹھایا گیا، شہباز شریف کو ایسے بٹھایا گیا جیسے اس سے زیادہ کوئی جنیئس نہیں، اسحاق ڈارنے توآکرکہا تھا موڈیز کو ٹھیک کرونگا اب تو غائب ہی ہو گیا ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ دو ڈاکو خاندانوں کی حکومتوں میں بھارت ہم سے آگے نکل گیا، نوازشریف نے لندن کے مہنگے علاقے میں چار فلیٹس بنائے، نوازشریف امیر اور قوم غریب ہو گئی، اسٹیبلشمنٹ، ہینڈلرز کو سمجھایا اگر سازش کامیاب ہو گئی تو یہ ملک نہیں سنبھال سکیں گے، میں نے کہا کہیں پاکستان ڈیفالٹ نہ کر جائے انہوں نے میرے خلاف مقدمات بنائے، جو قرض دے گا وہ ہم سے قیمت مانگیں گے، جو قرض دے گا وہ ہمارے قومی اثاثے کی طرف جائیں گے، نوازشریف کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اگرہم نیشنل سیکیورٹی پر کمپرومائز کریں گے، نواز شریف 23 دفعہ سرکاری دوروں پر لندن گیا، مجھے بھی دو لندن کے دوروں کی آفر ہوئی نہیں گیا، ہمارا ملک مقروض ہے، برطانیہ کے دورے پر نہیں گیا تھا، برطانیہ بیٹھ کر ڈیل کرتے ہیں جب گرین سگنل ملتا ہے تو واپس آجاتے ہیں، 30 سال سے یہی دوخاندان اقتدارمیں رہے دیوالیہ کس نے نکالا؟ ہماری حکومت نے ملک کو کورونا اور معیشت کوبھی بچایا، دنیا نے ہماری کورونا کی پالیسی کو سراہا۔عمران خان نے کہا کہ جب حکومت گرائی تب انڈسٹریز ترقی کررہی تھی، کیا اب بھی کوئی سمجھتا ہے کہ یہ لوگ ملک کومسائل سے نکال سکتے ہیں، ماضی میں کسی بھی حکومت نے ایکسپورٹ بڑھانے پر توجہ نہیں دی، مسلم لیگ کے گزشتہ حکومت میں ایکسپورٹ میں اضافہ نہیں ہوا تھا، ہمارے دور میں 32 ارب ڈالر کی تاریخی ایکسپورٹ ہوئی، ہماری حکومت نے اوورسیزپاکستانیوں کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ شروع کیا، بنڈل آئی لینڈ کو پی پی حکومت نے شروع نہیں کرنے دیا، پیپلز پارٹی نے آخری وقت میں منصوبے کو ختم کردیا، راوی ریورسٹی منصوبہ لاہورمیں شروع کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں الیکشن کی جلدی کیوں ہے، ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، اللہ کا خاص کرم ہے، اللہ نے لوگوں کے دل تحریک انصاف کی طرف موڑ دیئے ہیں، ہمارے ملک کو خطرہ ہے، ہم ملک کے قرض واپس نہیں کرسکیں گے، شہباز شریف بیرون ملک مانگ رہا ہے، سازش کی وجہ سے پاکستان یہاں پھنسا ہوا ہے، حقیقی آزادی مارچ کا مطلب انصاف ہے، لوگوں نے پاکستان میں رول آف لا کی حکمرانی نہیں دیکھی، میں نے برطانیہ میں رول آف لا کی حکمرانی دیکھی، تمام مسائل کی وجہ انصاف، قانون کی حکمرانی نہیں ہے، یہ جنگل کا قانون ہے، اس قانون میں خوشحالی نہیں آسکتی۔پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس صاحب کے پاس تینوں لینڈ مارک کیسز ہیں، ارشد شریف ایسا صحافی تھا جس کے ضمیرکی کوئی قیمت نہیں تھی، ارشد شریف کو دھمکیاں دے کر ملک سے بھگایا گیا، اعظم سواتی کو تنقیدی ٹویٹ پر ننگا کر کے مارا گیا، کِدھرسے انصاف ملے گا چیف جسٹس صاحب اس لیے آپ کے پاس گئے ہیں، سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ ہوں، مجھ پرقاتلانہ حملہ ہوا، سازش بارے پہلے ہی بتادیا تھا، تین نام لیے اب تک میری درخواست پر مقدمہ درج نہیں ہوا، سابق وزیراعظم ہوں، چیف جسٹس صاحب یہ لمحہ فکریہ ہے، تین لوگوں کا نام درج کرانا میرا بنیادی حق ہے، ہوسکتا ہے انویسٹی گیشن میں یہ نام غلط ثابت ہو جائیں، اپنی حکومت ہونے کے باوجود ایف آئی آردرج نہیں کرا سکا، یہی توکہتا ہوں ملک میں طاقت وراورکمزورکے لیے الگ الگ قانون ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں